چانگجھو ، 18 ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ہندوستانی عظیم بیڈمنٹن کھلاڑی پی وی سندھو کواگر بین الاقوامی سرکٹ میں اپنی مسلسل اچھی کارکردگی کو جاری رکھنا ہے اور منگل سے یہاں شروع ہو رہے چین اوپن کے خطاب کو دوبارہ جیتنا ہے تو تھکاوٹ پر قابو پانے کا طریقہ ڈھونڈناہوگا۔ گزشتہ ہفتے جاپان اوپن کے دوسرے راؤنڈ میں شکست کے دوران سندھو پر تھکاوٹ کا اثر دکھائی دے رہا تھا۔گزشتہ سال اکتوبر میں ڈنمارک اوپن کے پہلے راؤنڈ میں شکست کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب سندھو کسی ٹورنامنٹ سے جلدی باہر ہوئی تھی۔ تیس سالہ سندھو نے موجودہ سیشن میں اچھی کارکردگی اور تین بڑے مقابلوں دولت مشترکہ کھیل، عالمی چمپئن شپ اور ایشیائی کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔وہ انڈیا اوپن اور تھائی لینڈ اوپن کے فائنل میں بھی پہنچنے میں کامیاب رہی۔ حالانکہ مصروف شیڈول کی وجہ سے سندھو کو تھکاوٹ پر قابو پانے کا کافی وقت نہیں مل رہا ہے۔اولمپکس اور عالمی چمپئن شپ کی چاندی کا تمغہ فاتح سندھو نے 700000 ڈالر انعامی چین اوپن کا خطاب 2016 میں جیتا تھا اور بی ڈبلیو ایف عالمی ٹور سپر 1000 ٹورنامنٹ کے خواتین کے سنگلز خطاب کے وہ اہم دعویداروں میں شامل ہیں۔ چین اوپن کا 2014 میں خطاب جیتنے والی سائنا کا سنگ جی کے خلاف 8-2کا ریکارڈ ہے اور اگر وہ کوریائی کھلاڑی کے خلاف جیت درج کرتی ہیں تو چین کی پانچویں نمبر کے چین یوسیفی سے ان کا مقابلہ ہو سکتا ہے۔سائنا اور سندھو اگر اپنے اپنے مقابلے جیت لیتی ہیں تو کوارٹر فائنل میں ان دونوں کا مقابلہ ہو سکتا ہے۔گزشتہ سیشن میں چار ٹائٹل جیتنے والے کدامبی سری کانت موجودہ سیشن میں امید کے مطابق کارکردگی نہیں کر پائے ہیں۔ساتویں شیڈ سری کانت نے دولت مشترکہ کھیلوں میں مردوں کے سنگلز کا چاندی کا تمغہ جیتا لیکن ان کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی ہے۔اس سال کچھ وقت دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی رہے سری کانت اپنی مہم کا آغاز ڈنمارک کے راسمس گیمکے کے خلاف کریں گے۔کوارٹر فائنل میں سری کانت کے جاپان کے کھلاڑی سے کھیلنا پڑ سکتا ہے جنہوں نے انہیں ملائیشیا اور انڈونیشیا میں شکست دی۔ایچ ایس پرنیے کو پہلے راؤنڈ میں ہانگ کانگ کے آٹھویں نمبر کے ینجی کا لوگ ینگس کے خلاف کھیلنا ہے۔دیگر ہندوستانیوں میں اشونی پونپا اور این سکی ریڈی کا سامنا کم سو یونگ اور کونگ ہی یونگ کی کوریا کی جوڑی سے ہوگا۔